اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے صوبہ تعز کے شیوخ، عمائدین اور اہم شخصیات کا اجلاس پیر کے روز سعودی فوجی سرگرمیوں کی مخالفت، ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ‘‘ کی حمایت، یمنی مسلح افواج کی کارروائیوں پر مبارک باد اور عام معافی کے اعلان کی توثیق کے لیے منعقد ہوا۔
اجلاس کے شرکاء نے ایک بار پھر سعودی اقدامات اور قومی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے یمنی مسلح افواج کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے جارحیت کا مقابلہ کرنے، صوبے کے مختلف علاقوں کو آزاد کرانے، شاہراہوں کو محفوظ بنانے اور شہریوں کے تحفظ کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔
تعز کے گورنر قاضی احمد المساوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ ان مجاہدین کی سرزمین ہے جنہوں نے اسلام کی روشنی اختیار کی اور برطانوی قبضے کے خلاف مزاحمت کی۔
انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج صوبے کے عمائدین کے تعاون سے شاہراہوں کی حفاظت، شہریوں کی آمد و رفت میں سہولت اور ان کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہیں۔
المساوی نے کہا کہ گزشتہ روز سعودی افسران کو التربہ ضلع سے نکلنے پر مجبور کرنا کوئی معمولی یا عارضی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ اس صوبے میں سعودی مداخلتوں اور جارحیت کے ایک سلسلے کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعز اپنے عوام، شیوخ، عمائدین اور تمام سماجی کارکنوں کے ساتھ مل کر جارحیت کے مقابلے میں اہم اور فیصلہ کن تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
صوبہ تعز کے ایک بزرگ شیخ عفیف الذبحانی نے بھی سعودی اقدامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام ان اقدامات کے خلاف کھڑے ہوں گے اور قومی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
الذبحانی نے کہا: ’’ہم دشمن سعودی عرب کی سرگرمیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے۔ ہم قومی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم محاصرے کے جواب میں محاصرے کی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں، اپنی مسلح افواج کی کامیابیوں پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مختلف علاقوں کی آزادی تک ہم تعز کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔‘‘
الشمایتین ضلع کے بزرگ شیخ مازن النعمان نے کہا کہ یہ اجلاس یمنی مسلح افواج کی ان کامیابیوں کے موقع پر منعقد ہوا ہے جو ایک ایسی جنگ میں حاصل ہوئی ہیں جسے وہ یمنی عوام کے دفاع کے لیے مقدس اور فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔
النعمان نے وضاحت کی کہ صوبے کے عوام نہ اپنے ملک کے کسی فرد کو اور نہ ہی کسی فریق کے حقوق کو نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ موجودہ اقدام ان کے حقوق کے دفاع کے دائرے میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ’’ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے کسی فرد یا کسی کے حقوق کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ ان کے دفاع کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام نے تعز کو سعودی جارحیت کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی، لیکن سب کو نشانہ بنایا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے اور صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس سے انسانی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔
اجلاس کے اختتام پر تعز کے شیوخ، عمائدین اور اہم شخصیات نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں تعز اور اس کے اطراف میں سعودی دشمن اور اس کے مقامی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کی سخت مخالفت کا اعلان کیا۔
اعلامیے میں سعودی اقدامات کو پسپا کرنے اور مختلف علاقوں کو ان کے مقامی مسلح گروہوں سے پاک کرنے میں یمنی مسلح افواج کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ اس کے علاوہ معاشرے کے تحفظ، مقامی آبادی کی مدد، ان کے اموال کے تحفظ اور امن و استحکام کے قیام میں مسلح افواج کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔
شرکاء نے سعودی دشمن کے خلاف ’’محاصرے کے جواب میں محاصرہ اور کشیدگی کے جواب میں کشیدگی‘‘ کی حکمت عملی کو یمن کے محصور عوام کے دفاع کا جائز حق قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔
اعلامیے میں مھدی المشاط کی جانب سے جاری کیے گئے عام معافی کے فرمان کی بھی توثیق کی گئی۔ شرکاء نے اس فیصلے کو دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یمن میں خونریزی روکنے اور قومی صفوں کو متحد رکھنے کے لیے حکومت کی فکر کا نتیجہ ہے۔
آپ کا تبصرہ